ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل رمضان بازارمیں معمولی جھڑپ کے بعد حالات پُرامن؛ بازار میں معمول کے مطابق دکانوں اور باکڑوں پر لوگوں کا ہجوم

بھٹکل رمضان بازارمیں معمولی جھڑپ کے بعد حالات پُرامن؛ بازار میں معمول کے مطابق دکانوں اور باکڑوں پر لوگوں کا ہجوم

Fri, 21 Apr 2023 16:27:44    S.O. News Service

بھٹکل 21/اپریل (ایس او نیوز) بھٹکل میں جمعرات دیررات کو معمولی جھڑپ کے بعد حالات کچھ دیر کے لئے کشیدہ ہوگئے تھے، مگرپولس کی بروقت کاروائیوں کے بعد حالات پُرامن ہیں، ایسے میں عوام کے اندرخوف وہراس کو دور کرنے کے لئے سینٹرل ریزرو پولس فورس (سی آر پی ایف)  نے جمعہ کو رمضان بازار میں فلیگ مارچ بھی کیا ہے تا کہ عوام  کے اندراعتماد بحال کیا جاسکے۔

رمضان بازار کے بعض دکانداروں سے پوچھ تاچھ کرنے پر پتہ چلا کہ جمعرات دیر رات قریب ساڑھے بارہ بجے چارغیر مسلم لوگوں  کا ایک گروپ خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے مقصد سے آوارہ گردی کررہا تھا ایک شخص نے جب راہ چلتی ایک خاتون کے ساتھ چھیڑ خانی کی، تو لوگوں نے متعلقہ شخص کو وہیں پکڑ لیا اور اُس کی دُھنائی شروع کردی، اس دوران اس کے دیگر تین ساتھی وہاں سے فرار ہوگئے. بعض عینی شاہدین نے بتایا کہ اس موقع پر بعض سنجیدہ  مسلم نوجوان جب مار کھانے والے شخص کو بچانے کی کوشش کرنے کے لئے آگے بڑھے تو لوگوں نے  اُن کو بھی نہیں بخشا۔ اس دوران پولس جائے وقوع پر پہنچ گئی اور  متعلقہ  مار کھانے والے شخص کو  اپنی  گاڑی کے اندر  بٹھالیا۔  مگر اس موقع پر  بعض لوگوں نے پولس سے متعلقہ شخص کو اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ شروع  کردیا اور پولس سے اُلجھنا شروع کردیا۔ جس سے حالات کشیدہ ہوگئے۔بتایا گیا ہے کہ بعض لوگوں نے اس دوران  پولس پر پتھراو کرنا شروع کردیا اور پتھراو کے نتیجے میں پولس جیپ کے اگلے شیشے کو  نقصان پہنچا۔رات کو ہی ںعض وڈیو کلپس سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولس کی زائد فورس جائے وقوع پر پہنچ گئی اور پولس نے آتے ہی دکانوں اور  باکڑا والوں کو بند کرنے کا حکم دیا، اس دوران کسی آٹو ڈرائیور نے  وہاٹس ایپ پر مسیج وائرل کردیا کہ بھٹکل رمضان بازار میں جھگڑا شروع ہوگیا ہے اس لئے پولس رمضان بازار کو بند کررہی ہے۔ ایک اور  آڈیو مسیج میں اُس نے بھٹکل کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جتنی فیملی والے رمضان بازار میں ہیں، اُن کے گھروالوں کو چاہئیے کہ وہ اپنے اپنے لوگوں کو وہاں سے لے جائیں۔ رات ایک بجے کے یہ مسیجس صبح تک  تقریبا سبھی وہاٹس ایپ گروپوں میں  وائرل ہونے سے پورے شہر میں حالات کشیدہ ہوگئے ۔دیر رات کو ہی بھٹکل میں پولس کی زائد فورس منگوائی گئی اور اہم ناکوں پر تعینات کی گئی، ساتھ ساتھ  کاروار سے ایس پی  اور ایڈیشنل ایس پی  بھی صبح سے پہلے ہی بھٹکل پہنچ گئے۔ جمعہ دوپہر کو مینگلور سے انسپکٹر جنرل آف پولس  نے بھی حالات کا جائزہ لینے بھٹکل پہنچ کر  ذمہ داران سے رابطہ کیا اور پولس کو بھی ضروری ہدایات دیں۔

چھیڑ خانی کرنے اور پولس پر پتھراو کرنے کے الزام میں پولس نے سات لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے جن کی شناخت بھٹکل ہڈلور کے رہائشی اور آٹو ڈرائیور چندرا سومیا گونڈا (28)،  سلطان اسٹریٹ کے رہائشی اور کپڑے دکان والا محمد میراں محمد عمران شیخ (35)، ہڈین سرپن کٹہ کا آٹو ڈرائیور رویندرا شنکر نائک(32)،  گلمی کے  رہائشی اسماعیل نورانی جعفر صادق (26)پیشہ سے ڈرائیور،  سید سلیم سید ثناء اللہ(31)، پیشہ سے آٹو ڈرائیور،  محمد فیضان عبدالعظیم(20) اور  محمد صدام نظام الدین سید (24) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

بتاتے چلیں کہ بھٹکل میں آج جمعہ کو 30 روزے مکمل ہورہے ہیں اور کل سنیچر کو عید الفطر ہے۔ بھٹکل میں رمضان کے آخری آیام میں رمضان بازار میں عوام کا ہجوم  اُمڈ پڑتا ہے اور  آخری تین راتوں میں یہاں بازار صبح تک کھلے رہتے ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ کرناٹک میں آئندہ ماہ  اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، ایسے میں  شرپسند عناصر حالات کوبگاڑنے کے لئے اور انتخابات میں اس کاپورا فائدہ حاصل کرنے  ہر طرح کے حُربے استعمال کرسکتے ہیں، عوام الناس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس طرح کے شرپسند عناصروں کے منصوبوں کو کامیاب نہ ہونے دیں ۔

بھٹکل رمضان بازار میں عوام کا ہجوم:   واقعے کے بعد بھٹکل میں حالات بالکل پرامن ہیں اور  پولس کی زائد فورس تعینات کی گئی ہے۔ رمضان بازار میں دکانیں اور باکڑے معمول کے مطابق کھل چکے ہیں اور عوام کا ہجوم رمضان بازار میں نظر آرہا ہے۔  مجلس اصلاح و تنطیم کے ذمہ داران نے عوام الناس سے اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں ۔ ذمہ داران نے  مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ  بھٹکل  رمضان بازار میں عید کی خریداری کے لئے آسکتے ہیں، یہاں حالات  معمول پر آچکے ہیں۔  اس ضمن میں پتہ چلا ہے کہ تنظیم ذمہ داران مقامی پولس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ برابر رابطے میں ہیں۔


Share: